Pages

Powered By Blogger

Sunday, January 19, 2025

(21) معاشرتی طبقات

معاشرے میں بنیادی طور پر تین طبقات ہوتے ہیں۔


1۔ اپر کلاس: یہ سب سے طاقتور طبقہ ہے جس کے پاس وسائل کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ امیر ترین طبقہ ہے۔ دنیا  کی دولت کا 1 سے لیکر 10 فی صد اس طبقہ کے پاس ہے۔ یہ غریب ملکوں میں 1فی صد سے بھی کم اور امیر ملکوں میں 10 فی صد تک ہو سکتے ہیں۔ ان کی تعداد امیر ممالک میں سے سے زیادہ ہے۔ امریکہ، چین، انڈیا، جرمنی اور روس جیسے ملکوں میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔


2۔ لورکلاس: یہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہے جن کے پاس وسائل کی کمی ہے اور یہ طبقہ اپنے روزمرہ ضروریات مشکل سے پوری کرتا ہے۔ دنیا میں ان کی تعداد امیر ملکوں میں 50 فی صد جبکہ غریب ملکوں میں 70 فی صد تک ہے۔ بہت سارے افریقی ممالک، جنگ زدہ ممالک اور پاکستان اور افغانستان میں غربت کی شرح سب زیادہ ہے۔


3۔ مڈل کلاس: یہ معاشرے کا درمیانی طبقہ ہے۔ دنیا میں ان کی تعداد غریب ملکوں میں 10 فی صد سے جبکہ امیر ملکوں میں 40 فی صد تک ہے۔ چین اور امریکہ میں ان کی تعداد 40 فی صد سے اوپر جبکہ انڈیا میں یہ لوگ 10 سے لیکر 15 فی صد تک ہو سکتے ہیں۔ غریب ملکوں میں ان کی تعداد 10 فی صد سے کم بھی ہو سکتی ہے۔ 


کسی ملک کے معاشرتی طبقات کو سمجھنے کے لئے اس ملک کے معروضی حالات کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ کسی غریب ملک کا اپر کلاس کسی امیر ملک کے مڈل کلاس کے برابر ہو سکتا ہے جبکہ امیر ملک کا لور کلاس کسی غریب ملک کے مڈل کلاس کے برابر ہے۔ امریکہ میں 6 ہزار روپے سے کم کمانے والا غریب ہے جبکہ ایتھوپیا میں 6 سو روپے کمانے والا غریب ہے۔


کلاس میں وسائل تک رسائی اور ان کا استعمال، تعلیم، پیشے، خاندانی، نسلی،  سماجی اور سیاسی اختیار اہم جز ہیں۔ کلاس ایک احساس بھی ہے کہ کسی معاشرے میں لوگ کس حد تک محفوظ، بااختیار اور خوش ہیں۔ اس سلسلے کا اگلا پوسٹ مڈل کلاس کے بارے میں ہے۔

Tuesday, January 7, 2025

( 20 ) بیگانگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ڈپریشن کا حل


ڈپریشن ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ بنیادی طور پر ہمارے بدن میں خاص طور پر دماغ کے مختلف خصوں اور نیورولوجیکل نیٹورک میں بگاڑ اور بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جن کا باقاعدہ علاج کرنا ضروری ہے۔


ہمارے یہاں ڈپریشن کو بیماری نہیں سمجھا جاتا۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی فرد کی دماغی حالت بہت خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ تھوڑی بہت ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے لیکن بیگانگی کے نتیجے میں سماج میں موجود لاکھوں ڈپریشن کے کیس قبول کرنے پر کوئی راضی نہیں ہوگا۔


دوسرا مسئلہ ڈپریشن کے مختلف لیول ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر انسان شدید ڈپریشن کا شکار ہو۔ معمولی ڈپریشن سے لیکر شدید ڈپریشن تک کئی لیول ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ معمولی ڈپریشن بھی اگر زیادہ عرصے تک رہے تو خطرناک ہو سکتی ہے۔


سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پوری آبادی کا علاج کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ بظاہر اس کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ سیاسی اور سماجی لیڈر و کارکنان اپنی ذہنی و جسمانی صحت پر زیادہ توجہ دیں اور یہ بات ذہن میں بٹھا دیں کہ پوری آبادی ہمدردی کے مستحق ہے کیونکہ تاریخ کے جبر کے زیر اثر ان لوگوں کو ایسی ذہنی اذیت سے گزارا جا رہا ہے جن میں ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں۔ 


سیاست میں عوامی ڈپریشن زیادہ تر Cognitive Dissonance کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس کا علاج تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم لوگوں کو حقائق کی طرف واپس لائیں۔ پس ہمیں ایسے افراد کی ضرورت رہتی ہے جو حقائق کا کھوج لگانے کے قابل ہوں۔ 


نوٹ:

Cognitive Dissonance 

انسانی ذہن حقیقت تخلیق کرتا ہے۔ یہ کسی پروجیکٹر کے فلم کی طرح ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم دریا کنارے بیٹھ کر لہروں کو دیکھتے ہیں تو ہم ان لہروں کے اوپر مسلسل اپنے ذہن کی بنائی ہوئی ویڈیو پروجیکٹ کرتے ہیں جو اکثر حقیقی لہروں سے مختلف ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں وہ نظر آتا ہے جو ہمارا ذہن ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔


بعض اوقات ذہنی تصاویر اور خیالات اصل حقائق سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ایسا اکثر تصورات اور تجریدی حقائق میں زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جائے کہ ہم یا ہمارے لیڈر ہمارے خراب حالات کے ذمہ دار ہیں اور جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ معاملہ اس کے الٹ ہے جیسا کہ غلامی کے دور یا نوآبادیاتی دور میں تھا تو ہمارے ذہنی خیالات اور ہمارے اردگرد کے خقائق کے درمیان ایک تضاد پیدا ہوتا ہے اور ہم دونوں سوچوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ اس ذہنی سطح کو Cognitive Dissonance کہتے ہیں۔


اس ذہنی سطح کی بنیادی نشانیاں پریشانی، احساس جرم اور شرمندگی کے احساسات ہیں۔ ہمارا ذہن اصلی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا اور اور اپنے ذہنی دورنگی کے لئے جواز مہیا کرتا ہے۔ ہمارے دماغ کے وہ حصے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو غلطی معلوم کرنے، جذبات پر قابو پانے اور یاداشت اور سیکھنے کے عمل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ 


اگر وقت پر اور ساتھ ساتھ Cognitive Dissonance کو پکڑا نہیں جاتا اور اس سے جان نہیں چھڑائی جاتی تو یہ مستقل ذہنی بیماریوں جیسے ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے۔

Monday, January 6, 2025

(19) ذات سے بیگانگی

اسے نیو لبرالزم، کپیٹلزم یا کو ئی بھی نام دیں۔ اشرافیہ ایک خاص طریقے سے اپنی سیاسی طاقت کولوگوں کے ذہنوں میں بٹھا دیتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو اشرافیہ کی طاقت فطری لگتی ہے ۔ اشرافیہ کا اپنا کلچر ہوتا ہے جو یہ نیچے طبقات پر مسلط کرتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے کے نچلے طبقات اپنا اجتماعی شعور کھو دیتے ہیں اور اشرافیہ کے کلچر کی نقل کرنے لگتے ہیں۔بالفاظِ دیگر معاشرے کا سب سے بالادست طبقہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے زیرِ دست طبقات کو کلچرال چینج کے ذریعے غلام بنائے رکھتا ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھنے کی کو شش کر تے ہیں۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھنا، شادی بیاہ اور فوتگی کے موقع پر پانی کی طرح پیسے بہانا، بیوٹی پارلر میں قیمتی میک اپ، قیمتی جوڑے اور دیگر عیاشیاں ہمیشہ سے اشرافیہ کے چونچلےرہے ہیں۔یہ ایک طرح سے طاقت اور برتری کا احساس ہے جو بالادست طبقہ دوسروں کو دکھانے کے لئے کرتا ہے اور اس سے اپنی جھوٹی انا اور خود فریبی کو چھپاتا ہے تاکہ لوگ ان سے مرغوب رہیں اور ان کی طاقت برقرار رہے۔تاہم یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ معاشرے کے نچلے طبقات کیوں ایسے عیاشیوں میں پڑ جاتے ہیں جن سے ان کو وہ ساری چیزیں نہیں ملتی جو کہ اشرافیہ کو ملتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زیرِ دست طبقات یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اشرافیہ کی نقل کرکے حقیقی خوشی حاصل کر لیں گے۔ اس فرضی خوشی کے لئے یہ طبقات بہت زیادہ محنت کرتے ہیں اور ہر جائز و ناجائز طریقےسے دولت کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم ایک یا دو مواقع پر دولت کی نمائش نہ تو نچلے طبقات کی سٹیٹس کو تبدیل کرتا ہے اور نہ ہی وہ زیادہ وقت کے لئے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ایسے لوگ دولت کمانے کے شیطانی چکر میں اپنی زندگی تباہ کر دیتے ہیں اور بالادست طبقے کے کلچر کو پھیلانے کے سب سے بڑے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ اپنے کلاس یا اپنے آپ کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔
نوآبادیاتی نظام اور اسکے باقیات نے معاشرے کے اکثریت کو خود سے بیگانہ کر دیا ہے۔بیگانگی کے کچھ شکلوں کو تو ہم پہچان سکتے ہیں جیسے اپنی زمین ،زبان، ثقافت، تعلیم اور سیاسی و سماجی اختیارکے مقابلے میں کسی اور زبان اور ثقافت کے زیرِ اثر زندگی گزارنا۔ تاہم بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ مسلسل بیگانگی انسانی کو اپنے سماج کے وجود سے غافل رکھتی ہے اور اس کو نفسیاتی طور پر انفرادیت کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔ اجتماعیت کی یہ ضِد آخر میں شدید تنہائی جیسے ذات سے بیگانگی پر ختم ہوتی ہے۔
ذات سے بیگانگی معاشرے میں شدید ڈیپریشن اور ذہنی بیماریوں کا سبب ہے۔انسانی شخصیت سماجی پریشر کے نتیجے میں ایک طرف کمزور ہو جاتی ہے تو دوسرے طرف یہ پریشر اس کو چیزوں جیسے گاڑیوں، بنگلوں، پوسٹوں، بڑی بڑی تقریبوں کے پیچھے لگا دیتی ہے اور وہ ان فرضی خوشیوں کے حصول میں فرار ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔معاشرے میں عدم تحفظ بڑھنے لگتا ہے اور آخر کار معاشرہ ایک شیطانی چکر کا شکار ہو جاتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن سا لگتا ہے۔ڈیپرشن کے شکار لوگوں پر حکومت کرنا سب سے آسان کام ہے کیونکہ تھوڑا سا ڈر بھی ان کو تابعدار رکھتا ہے۔ایسے معاشرے سے لوگ بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

(18) نیولبرالزم

تاریخ کی روح یا نبض کو جرمن زبان میں zeitgeist کہا گیا ہے. یہ وہ خفیہ ہاتھ یا قوت ہے جو کہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر غالب رہتا ہے اور اس سے بچنا تقریباﹰ ناممکن ہوتا ہے.
تاریخ کے مختلف ادوار میں زیادہ تر انسان کسی ایک فلسفے، نظریے یا نظام پر متفق نہیں رہے ہیں اور نہ ہی طاقتور انسانوں کے پاس ایسی ٹیکنالوجی رہی ہے جس کے ذریعے یہ کام ممکن ہو سکے. پس zeitgeist علاقائی یا فتوحاتی حدود تک مقید رہا اور عالمگیریت حاصل نہ کر سکا.
بیسویں صدی میں کمیونزم اور مغربی جمہوریت نے عالمگیریت حاصل کرنے کی کوششیں کیں لیکن دونوں کامیاب نہیں ہو سکیں. تاہم مغربی سرمایہ دارانہ نظام جو شروع میں مارکیٹ اور لیبر کے کمپرومائز کی وجہ سے ویلفیر ریاست پر منتج ہوا تھا 1970 کی دہائی کے بعد ایک ایسے عفریت کی شکل اختیار کر گیا جس نے جمہوریت، سوشلزم اور حتٰی کہ مذہب کو بھی اپنے زیرِ اثر کر لیا. تاریخ کے اس بدروح کا نام نیو لبرلزم neoliberalism ہے. اس بدروح نے گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہوا ہے اور موجودہ دور میں یہ اپنے جوبن پر ہے. شاید ہی دنیا کا کوئی ملک یا ثقافت ایسا ہو جس پر اس بدروح کا سایہ نہ ہو. عامرانہ طرزحکومتوں کا احیاء یا طاقت پکڑنا ہو یا جمہوریت میں دائیں بازو کی سیاست کا غالب آنا ہو، نیولبرلزم کے اثرات یا اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسایل آج ہماری زندگی کا حصہ ہیں.
آنے والے دنوں میں کوشش ہوگی کہ ڈیوڈ ہاروے کی کتاب A brief history of neoliberalism کا اردو ریویو لکھ سکوں. آج کی سیاست اور معیشت کو سمجھنے میں اس کتاب کی کافی اہمیت ہے.

Sunday, January 5, 2025

(17) مادیت پرستی بمقابلہ روحانیت

دنیا کے پانچویں بڑے ویب سائٹ ویکی پیڈیا کے خالق جمی ویلز اپنے ویب سائٹ سے اربوں کما سکتا تھا لیکں اس نے ویکی پیڈیا کوپیسے بنانے کی مشین نہیں بننے دیا۔ اس کے برعکس دنیا کے تیسرےبڑے ویب سائٹ فیس بک کے مالک مارک زکربر گ نے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔تاریخ میں ایسے ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں انسانوں نے اپنے تخلیقات اور اپنی محنت دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لئے وقف کئے ہیں۔ جب کہ دوسری طرح اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور تخلیقات سے ذاتی فائدے اٹھائے ہیں۔
محنت، تخلیق اور افکار کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا مادہ پرستی کہلاتا ہے جبکہ اس کا الٹ روحانیت ہے۔ دنیا کے مذاہب، ادب، فلسفہ ،سیاسیات اور دیگر بہت سارے علوم بنیادی طور پر روحانیت کا درس دیتے ہیں۔
سیاست میں مغر بی سرمایہ دارانہ جمہوریت(جسے نیولبرالزم بھی کہا جاتا ہے) مادہ پرستی کی مثال ہے۔ یہ نظام سمجھتا ہے کہ افکار، تخلیقات اور محنت کے پیچھے انسان کے ذاتی مقاصد اور لالچ کار فرما ہیں اور معاشی ترقی دراصل نفع کی پیچھے بھاگنے کے نتیجے میں ممکن ہے۔یہ نظام غربت کوسستی اور کاہلی سے تعبیر کرتا ہے۔یہ نظا م انفرادیت کا درس بھی دیتا ہے اور اجتماعی نظاموں کے برعکس ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک روحانی تحریک عیسائیت سے جنم لینے والا لبرالزم موجودہ دور کے مادیت پرست نیولبرالزم میں تبدیل ہوگیا ہے۔
سیاست میں مادیت پرستی کا تصور کارل مارکس نے متعارف کروایا تھا۔ مارکس کے مطابق فطرت (اور انسانی تاریخ) میں مادی عوامل جیسے ماحول اور حالات کی تبدیلی (اقتصادی حالات)کی وجہ سے تغیر یا ترقی وقوع پذیر ہوتی ہے۔مارکس انسان کو حالات(تاریخ) کا حصہ سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی عہد کے معاشی نظام اور پیداواری شکلیں انسانی افکار ، تخلیقات اور محنت کو پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔مارکس نے مغربی یورپی سرمایہ دارانہ نظام کا سائننسی مطالعہ کرنے کے بعد موجودہ دور کے نیولبرالزم کی پیش گوئی کی تھی اور اسکا یہ حل تلاش کیا تھا کہ اس مادیت پرستی کے خلاف کمیونزم کی شکل میں ایک سیاسی تحریک چلائی جائے۔یہ سیاسی تحریک خود غرضی اور ذاتی مفادات سے پاک ہو اور اجتماعی بھلائی پر مبنی ہو۔ نیو لبرالزم کے انفرادیت کے برعکس مارکس نے سیاست میں رومانیت اور روحانیت کا بیج بو دیا۔

(16) تنظیم سازی کا طاقت اور سیاست کا نظریہ

پاور اینڈ پالیٹکس نظریہ بنیادی طور پر تنظیم سازی کا نظریہ ہے جس کا اطلاق کسی بھی رسمی یا غیر رسمی تنظیمی ساخت پر کیا جا ستکتا ہے۔یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ ادارے عقلیت کے بنیاد پر نہیں چلتے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کے واضح مقاصد ہوتے ہیں اور اتھارٹی یا پوزیشن پر بیٹھے لوگ ان مقاصد کا تعین کرتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ نظریہ تنظیم سازی کے تما م کلاسیکی نظریات اور ان جیسے دیگر نظریات کو رد کرتا ہے جو تنظیم سازی کو رسمی قوانین، قواعد و ضوابط، اتھارٹی، روایات اور عقلیت کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ طاقت اور سیاست کا نظریہ کلا سیکی نظریات اور ان جیسے دیگر نظریات کو سادگی سے تعبیر کرتا ہے اور ان کو غیر حقیقی گردانتا ہے۔ طاقت اور سیاست کا نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ ادارے افراد اور گروہوں پر مشتمل ایسا پیچیدہ نظام ہوتے ہیں جہاں پر ذاتی مفادات، ترجیحات، نقطہ ہائے نظر اور عقائد ونظریات اداروں کے مقاصد کے مقابلے میں زیادہ غالب رہتے ہیں اور افراد اور گروہ (کوایلشن) اداروں کے اندر پاؤر گیم میں لگے رہتے ہیں تاکہ اداروں کے اندر محدود وسائل ، طاقتور گروہوں اور طاقت کے مراکز تک رسائی حاصل کر سکیں۔ پس تنظیمی ساخت ، مقاصد اور عوامل باہمی لڑائیوں، مقابلے، ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے اور بارگیننگ جیسے مستقل حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔ اداروں کے اندر یہ تضادات نا گزیر ہیں۔
تنظمیی مقاصد اصل میں افراد اور گروہوں کے آپس میں بارگیننگ اور ایک دوسرے سے فائد ہ اٹھانے کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ کھبی کھبار اداروں سے باہر کے عوامل بھی اداروں کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اداروں کے اندر انفرادی مفادات اور گروہ بندیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور مقاصد اور ترجیحات اس وقت بدل جاتے ہیں جب ایک گروپ کی جگہ دوسرا گروپ لے لیتا ہے۔
تنظیم کے اندر طاقت کا توازن یا عدم توازن کا انحصار اس بات پر ہے کہ تنظیم کے اندر کن لوگوں ، یونٹس یا گروہوں کے پاس زیادہ اہم ذمہ داریاں ہیں۔ اہم ذمہ داریوں والے افراد زیادہ طاقت اپنے پاس رکھتے ہیں۔
جہاں روایتی تنظیمی نظریات میں طاقت کو اتھارٹی کے ساتھ جوڑا گیا ہے وہاں پاور اینڈ پالیٹکس تھیوری ہمیں بتا تا ہے کہ اتھارٹی طاقت کا محض ایک جز ہے اور طاقت ہر سمت میں موجود ہوتا ہے۔ طاقت اصل میں ایک محرک یا محرکات ہیں ہے جو کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔طاقت وہ چھپی صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم دوسروں پر اثر رکتھے ہیں۔
آخر میں یہ بات ضروری ہے کہ تنظیم کے اندر نظریات کا اہم کردار ہے۔ نظریاتی لوگ تنظیم کے اندر سب سے زیادہ طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔

(15) سیاست اور ریسرچ

 بڑھتی ہوئی آبادی، آبادی کے اندر مختلف طبقات اور سماجی ڈھانچے میں تبدیلی کے وجہ سے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم رائے عامہ کا تجزیہ روایتی معلومات کے ذریعے کر سکیں۔ایک یونین کونسل کی سطح پر بھی اب یہ ممکن نہیں رہا کہ یہ معلوم کیا جسکے کہ لوگوں کی سوچ کیا ہے اور اسی طرح ان کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے متعلقہ سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔ اس لئے سیاسی عمل میں تحقیق کی ضرورت اب شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔

موجودہ دور میں ریسیرچ کے بغیر مارکٹ اور بزنس سے لیکر تعلیم، صحت اور دیگر شعبے نامکمل ہے۔ سیاست بھی اس عمل سے باہر نہیں۔ریسرچ کے ذریعے اب یہ کسی حد تک ممکن ہوا ہے کہ کروڑوں لوگوں میں سے پانچ ہزار کا نمائندہ سیمپل لے کے ایک پوری آبادی کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔ گیلپ سروے اس کی ایک مثال ہے۔
سیاست میں ریسرچ کے بہت سے ٹولز ہیں جن میں رائے عامہ کا سروے اور فوکس گروپ ڈسکشن انتہائی آسان ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں ایک یونیں کونسل کی سطح پر پتہ لگانا ہے کہ لوگ کن مسائل ، کنڈیڈیٹ یا خواہشات کو ووٹ دیں گے تو ہم سروے کر سکتے ہیں۔ سروے انتہائی آسان کام ہے۔ ووٹر لسٹوں میں سے ہر دس بندوں کو چھوڑ کر گیارویں بندے سے کچھ سوالات کر سکتے ہیں اور اس طرح سو یا دو سو لوگوں کے متعلق معلومات حاصل کرکے ہم ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی گاوں یا قصبے میں سے کچھ دو محلے چھوڑ کر تیسرے محلے کے ہر دسویں گھر میں لوگوں سے سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔اسی طرح کا عمل پارٹی کی اندر بھی کیا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر دو یا دو سے زیادہ کنڈیڈیٹ میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دینا ہو تو پارٹی کے اندر سروے کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا اور موبائل کے دور میں یہ سروے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔
فوکس گروپ ڈسکشن میں ہم آبادی کے متناسب نمائندگی والے ایک گروپ جس میں پندرہ سے بیس افراد شامل ہوں کے ساتھ مختلف سوالات پر بحث مباحثہ کر سکتے ہیں اور سیاسی بیانیہ کو عوامی توقعات کے مطابق تشکیل دے سکتے ہیں۔

My Articles

Read and Comment
Powered By Blogger

Followers

Blog Archive