Pages

Powered By Blogger

Sunday, January 5, 2025

(5) کمیونیزم

کمیونیزم صنعتی انقلاب کے دوران بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں اور مزدوروں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر ابھرا اور اپنے علمی اور سائنسی نقطہ نظر کی وجہ بیسویں صدی میں روس، چین اور دنیا کے دیگر حصوں میں سیاسی انقلابات کا باعث بنا۔ کمیونزم پرائیوٹ پراپرٹی یا ذاتی املاک کے تصور کو رد کرتا ہے کیونکہ روایتی سیاسی اور معاشی اشرافیہ ان املاک پر قابض ہیں جو کہ انہوں نے اپنی محنت سے نہیں بنائے بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مزارعوں اور مزدورں کی خون پیسنے کی کمائی سے بنے ہیں اور اس کی بنیاد پر بننے والا سیاسی نظام ان بے بس طبقات کے استحصال پر قائم ہے۔کمیونزم معاشرے کے اندر طبقاتی نظام کو غیر حقیقی مانتا ہے اور نچلے اور بے بس طبقات کو اجازت دیتا ہے کہ اپنے سے اوپر لوگوں سے سیاسی اور معاشی طاقت چھین لیں۔کمیونزم کے مطابق یہ انقلابی اقدامات عارضی ہیں اورانقلاب کے بعد مزدور اور بے بس طبقات کو حاصل ہونے والے سیاسی اور معاشی اختیارات کے بعد معاشرہ اتنا سمجھ دار بن جائے گا کہ ذاتی ملکیت اور استحصال کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آخر میں نہ ریاست کی ضرورت رہے گی اور نہ کسی مرکزی اتھارٹی کی۔ معاشرہ ایک خود کار طریقے سے معاشی مساوات کے اصولوں پر کام کرتا رہے گا۔
کمیوزم میں جمہوریت کی تعریف مختلف ہے اور ایک ووٹ کے تصور کے برخلاف کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کے پاس ووٹ کا اختیار ہوتا ہے ۔ یہ ارکان پڑھے لکھے اور نظریاتی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کمیونسٹ نظریات کی پرچار ان ان کو عملی جامہ پہنانے کے وقف کئے ہوتے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی کے لوگ انقلاب لاتے ہیں اور انقلاب کے بعد ریاست کے بھاگ دوڑ سمبھالتے ہیں۔ بعد میں یہی لوگ ریاستی اتھارٹی کو ختم کرے ایک بغیر ریاست کے مساوات اور بھائی چارے پر مبنی معاشرہ قائم کرتے ہیں جہاں کوئی کسی دوسرے کا استحصال نہیں کرتا بلکہ سب ایک وجود کی طرح زندہ رہتے ہیں۔ اس طرح کے معاشرے کو سوشلزم کہتے ہیں۔ بالفاظ ِ دیگر کمیونزم سوشلزم کے حصول کی ایک کڑی ہے۔
کمیونزم روایتی طور پر کیپیٹلزم کے بیانیہ کا ضِد سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ انسانی سیاسی ارتقاء کا آئیڈیل ہے۔ کمیونزم انسانی معاشرے کے اندر دولت کے وجہ سے پیدا ہونے والے طبقاتی کشمکش کو امیر اور غریب دونوں کے لیے نقصان دِ ہ قرار دیتا ہے کیونکہ دولت پورے معاشرے کو خود سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ایسا معاشرہ فطرت سے دور اور انسانی خوشیوں کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ معاشرہ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ یہ انسانوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جس میں سب ایک وجود کا حصہ ہوں۔
All reactions:
Muhammad Shuaib, Salman Khan and 2 others
Like
Comment
Send
Share

(4) کیپیٹلزم

 کیپیٹلزم کے مطابق ایک سیاسی اکائی جیسا کہ ایک ریاست یا بین الاقوامی طور پر معیشت اور معاشی سرگرمیوں پر کم سے کم پاپندیاں ہونی چاہئے۔نیو لبرالزم جدید کیپیٹلزم کی ایک شکل ہے جس کی بنیاد انسانی آزادیوں اور خاص طور پر ذاتی ملکیت پر قائم ہے۔اس نظریے کے مطابق غربت اور معاشی نا ہمواریوں کی بڑی وجہ انسان کی اپنی سستی اور کاہلی ہے۔ لوگ امیر اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطا بق زیادہ دولت کا حصول زیادہ آسائشوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور دولت کی تلاش اور جدوجہد انسان کو مسلسل کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔نیولبرلزم فلاحی ریاست کو رد کرتا ہے جس میں لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کا کام ہے۔ اس کے برعکس یہ نظریہ معاشرے کے اندر مقابلے کو ترجیح دیتا ہے اور ایسے قوانیں کی ترویج پر زور دیتا ہے جو معاشرے کے اندر مقابلے کی فضا اور آزاد تجارت کو سہارا دے سکے۔

اس نظریے کے مطابق سرمایہ دار اپنی انوسٹمنٹ (دولت) کی بدولت نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کرتا ہے جس سے معیشت کا حجم بڑھ جاتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اس بڑھتی ہوئی معیشت کا اثر معاشرے کے نچلے طبقات تک منتقل ہوتا ہے۔عالمی سطح پر دولت مند ممالک سے دولت سرمایہ کاری کے ذریعے غریب ممالک تک پھیلتی ہے اور غریب ممالک کی حالت بہتر ہوتی ہے۔
نیو لبرل ریاست میں گورنمنٹ کی بجائے گورننس پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کا کام تجارت کرنا نہیں اس لئے ایسے تمام کاروبار جو حکومت کے کنٹرول میں ان کو پرائیوٹائزڈ کیا جائے۔ حکومت زیادہ تر کام آوٹ سورس کرے اور این جی اوز کے ساتھ پارٹنر شپ میں کام کرے۔روایتی مزاحمتی سیاست کی بجائے غیر سرکاری ادرارے اور میڈیا حکومت کے فرینڈلی اپوزیشن کی طرح کام کریں۔
کیپیٹلزم اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ ہر بندے کے پاس ووٹ کا حق حاصل ہو کہ وہ خود بھی ووٹ ڈالے اور دوسرے بھی اس کو ووٹ ڈال سکیں۔

(3) کمیونزم اور کیپیٹلزم

کمیونزم اور کیپٹلزم سیاسی نظریات ہیں جو معیشت یا معاشی سرگرمیوں کے بنیاد پر قائم ہیں۔ سیاست کے لئے یہ ایک معمہ رہا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کا انتظام کس طرح سے کیا جائے۔ دراصل معیشت بذات خود جیسا کہ امیر افراد یا معاشی ادارے سیاسی اداروں جیسے حکومت ،سیاسی افراد اور اداروں سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔تاریخ میں اکثر امیر افراد نے یا تو خود حکومت کی ہے اور یا پس پردہ حکومتیں چلائی ہیں۔اسی طرح حکومت میں رہنے والے افراد نے معاشی سرگرمیا ں اپنے اختیار میں رکھی ہیں۔سیاست اور معیشت کے اس پیچید ہ تعلق اور اس کے نتیجے میں پیدہ ہونے والی سماجی اور معاشی ناہمواری اور ناانصافی کی ختم کرنے کے لئے علماء نے یہ دو نظریات دیے ہیں۔
کمیونزم اور کیپیٹلزم روایتی طور پر متضاد نظریات رہے ہیں اور کمیونزم کو کیپیٹلزم کی ضد کے طور پر سجھا جاتا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے۔ دونوں نظریات اپنے اہداف میں انسانی ترقی کو سرفہرست رکھتے ہیں اور عملی طور پر دونوں نظریات کسی بھی معاشی نظام میں قابل عمل ہیں جیسا کہ جدید چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

(2) معیشت کیا ہے؟


انسان اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے دوسروں کے ساتھ اشیاء اور خدمات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے۔ یہ اشیاء اور خدمات پیدا کی جاتی ہیں اور خرچ کی جاتی ہیں۔اشیاء و خدمات کا تبادلہ یا خرید و فروحت معیشت کہلاتا ہے۔ایک قبائلی یا دیہاتی علاقے کی معیشت بہت سادہ ہو تی ہے جس میں اکثر محدود اشیاء اور خدمات ایکدوسرے کے ساتھ بانٹی جاتی ہیں ۔تاہم صنعتی ترقی اور انفاریشن ٹیکنالوجی نے پیچیدہ شہری زندگی کو جنم دیا ہے جس میں لامحدود اشیاء اور خدمات کا تبادلہ معاشی اداروں جیسے بینکوں، کارپوریشن، کمپنیوں اور دیگر سرکاری و غیرسرکاری اداروں اور انفرادی و اجتماعی کاروباری سرگرمیوں کے بدولت ہوتا ہے۔ایک سیاسی طور پر باشعور معاشرے کو معیشت کے بنیادی تصورات جیسا فی کس آمدنی، افراط زر، ملکی بجٹ اور ملکی اور بین الاقوامی معیشت کی پیچیدگیوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ دنیا کے دو بڑے سیاسی نظریات کی بنیاد معیشت ہے جیسا کہ کیپیٹلز م اور کمیونزم ۔

(1) سیاست کیا ہے؟


سیاست ایک عمل ہے جو کسی بھی انسانی گروہ، معاشرے ، ریاست یا علاقائی و عالمی سطح پر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ طاقت اور رتبہ کس کے پاس ہوگا اور فیصلہ سازی کون کرے گا۔ انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کے ساتھ سیاسی عمل بھی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ سیاست فیملی اور دیہاتوں کی سطح پر بھی ہوتا ہے اور منظم اداروں جیسے ٹریڈ یونین، طلباء اور اساتذہ کے یونین سے لیکر سرکاری اورنیم سرکاری اداروں میں ہوتا ہے۔ کسی ملک میں حکومت کس کی ہوگی اس بات کا فیصلہ سیاسی عمل کرتا ہے۔ سیاسی عمل کے ذریعے انسانی حقوق اور آزادی کی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔سیاسی عمل میں سب سے زیادہ سیاسی پارٹیاں اور سیاسی تنظمیںشامل ہیں۔ سیاسی عمل میں بہت سے تصورات ہیں جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے جیسے طاقت کا تصور، سیاسی نظریہ، معیشت اور سیاست اور دیگر انسانی علوم کا رشتہ وغیرہ۔
All reactions:
Muhammad Shuaib, Salman Khan and 3 others

Monday, August 3, 2015

Governance



Our governance system is caught between colonial practices and the rising pressures and demands for modern studies in the field of management sciences. This has created a vicious cycle that has been retarding administrative institutions since long.

It should be noted that institutions take a long time to build or retard. Take for example Islamia College Peshawar. It has been successful to resist all the negative influences that have been tearing apart all other institutions. Similarly, many of our institutions are yet to find a standard because they could not evolve due to initial flaws in design. The later is very true of most of our prominent state institutions.

What inherently are responsible for the failure of institutions? Or to take a simpler views what is the essence of institutions? The essence of institutions is human resources. If we are able to manage these resources pragmatically we may transform these institutions. Two most important things in this regard are 1) Looking for the fittest person for a specific job 2) And ensuring that the person has the right aptitude for the job.

Then we come to the leadership issue. Who are to be the leaders? What qualities do we see in the leaders? We have university level courses in leadership and we have a historical knowledge of major successful leaders of the world. But it should be noted that what is true for one society may not be successful for another or what succeeded for one generation may not succeed for another. Therefore, all existing leaders and head of institutions are required to look for what is best for their own people. In this regard popular perceptions about leadership are to be taken into consideration.

People perceptions of leadership and their expectations form leaders are very important. For example, in Pakistan, people want their leaders to be as humble and down to earth as possible. Whenever, people criticize leaders they compare them with Hazrat Abu Bakar and Umar not in the religious sense but the social services they provided to the people. This is the main reasons why do leaders like Baacha Khan, Edhi, Akhar Hamid ur Rahman and similar others won the hearts of the people and brought visible transformation in their lives. These leaders were humble, dedicated and extremely positive towards their cause and the people.  

Saturday, June 6, 2015

ANP and PMAP

ANP and PMAP

Traditional Pashtun nationalism or hardcore version of it was centrifugal (if we avoid the word separatist). Its ideology was predominantly in favour of Afghanistan and anti Durand Line though annexation with Afghanistan or a separate Pashtun state of Pashtunistan was never so explicit. To be more exact Pashtun nationalists have been suffering from the contradiction of Great Afghanistan or Pashtunistan idealism versus federalist realpolitik within Pakstan. 

With the passage of time hardcore version of it diluted and the nationalists themselves are now actively seeking more space in the Pakistani politics and demanding more power share through constitutional means.  Apparently this makes them no different from other mainstream Pakistani political parties. 

In the last two decades many Pashtun nationalists have been disillusioned with the ideology professed by Awami National Party (ANP) and Pashtunkhwa Mili Awami Party (PMAP). Many have been in the process of joining other mainstream Pakistani parties  such as PML N, PPP or the recent wave of PTI which has been successful to make inroads into Khyber Pakhtunkhwa. This also includes many nationalists who are changing their loyalties time and again. 

This doesn't mean that the vote bank of ANP and PMAP decreased. Both the parties have been successful not only to attract fresh blood but were successful to form governments in their respective sphere of influence. Hence there is a visible qualitative decline but quantitative jump for these parties as for as Pashtun nationalism is concerned.

Despite ideological compromises both ANP and PMAP have certain strengths which make them equal to or better than mainstream political parties in Pakistan. Both are democratic, progressive and secular in their outlook. Both represent the true spirit of federalism which only PPP can match. The parties leadership are experienced and well versed in national and international politics. Ironically, it is due to these strengths and not the ideology of Pashtun nationalism that these parties have been expanding within Pashtun population, to say the least. 

Are these two parties in a position to make a shift from ethnic Pashtun nationalism to a more inclusive political approach so that other ethnic groups are attracted towards them? 



My Articles

Read and Comment
Powered By Blogger

Followers

Blog Archive